Zeeshan Ameer Saleemi Urdu Ghazal
ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا فکری و فنی تجزیہ دل کی دہلیز پہ آ کر نہ ٹھہر پایا کوئی بھیڑ کے شہر میں اپنا نہ پرایا کوئی وقت کی گرد نے آئینۂ جاں ڈھانپ لیا اپنی صورت سے بھی آنکھیں نہ ملایا کوئی در و دیوار میں بکھری ہوئی آوازوں میں اپنے ہونے کا نشاں ڈھونڈ نہ پایا کوئی سارے الزام مرے نام کی تختی پہ رہے بارِ الزام کبھی خود بھی اٹھایا کوئی؟ جس کو توقیرِ تعلق کا علمدار کیا وقتِ تقسیم وہی ہاتھ نہ آیا کوئی میں نے ہر موڑ پہ رکھا تھا دیا سچ کا...