Famous Geet
گیت
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
ہر راہ زندگی کی بیابان ہو گئی
تو تھا تو سانس سانس میں معنی اترتے تھے
آنکھوں کے آئینے میں وہ منظر سنورتے تھے
تو جو گیا تو شام بھی حیران ہو گئی
اب زندگی بھی خود پہ پشیمان ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
تو پاس تھا تو لمحے دعاؤں میں ڈھلتے تھے
سائے بھی تیری سمت ہی چپ چاپ چلتے تھے
ہر آرزو غبار کا طوفان ہو گئی
دل کی زمین حسرتِ باران ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
دل ڈھونڈتا ہے اب بھی وہ قدموں کی آہٹیں
خاموش رات میں بھی ہیں بکھری سی چاہتیں
یادوں کی دھند دل پہ نگہبان ہو گئی
ہر سانس دل کے ہجر میں قربان ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
تو ساتھ تھا تو وقت بھی ہمراہ چل پڑا
ہر زخمِ دل کا خود ہی گلابوں میں ڈھل پڑا
اب ہر گھڑی جدائی کا سامان ہو گئی
یہ ساعتِ حیات بھی زندان ہو گئی
دنیا ترے فراق میں ویران ہو گئی
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment