Zeeshan Ameer Saleemi Urdu Gazal
شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا کلاسیکی مطالعہ
غزل
نہ شب نے غم کو نگاہوں میں ڈھال کر ہی دیا
نظر نے زخموں کو خود باکمال کر ہی دیا
نہ فصلِ ہجر سے شکوہ، نہ ہی خزاں کا ملال
گلوں کے داغوں نے گلشن بحال کر ہی دیا
شبِ فراق کی وحشت نے بے خبر یوں ہی
لبوں پہ آہ کو زلفوں کا جال کر ہی دیا
ہوا نے چھین لیا جب سکونِ جاں کا پیام
تپش کو نغمۂ شوقِ وصال کر ہی دیا
نہ چشمِ تر نے کیا شورِ درد کا اظہار
دہر کے بوجھ نے دل کو نڈھال کر ہی دیا
کسی کی یاد نے چُھو کر رگِ جاں کی دہلیز
خراب حال کو آئینہ حال کر ہی دیا
ستم کی دھوپ میں جلتے ہوئے خیالوں نے
امیدِ ابر سے دل کو نہال کر ہی دیا
مرے سکوت میں پوشیدہ اضطرابوں کو
تری صدا نے سرِ عرضِ حال کر ہی دیا
جو ٹوٹنے کا ہنر تھا، وہی بچا آخر
اسی شکست نے مجھ کو مثال کر ہی دیا
شاعر: ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment