Zeeshan Ameer Saleemi Gazal
غزل
کسی کی یاد کا ملبہ اٹھائے پھرتے ہیں
جلے ہوئے ہیں مگر مسکرائے پھرتے ہیں
تمہاری یاد کا سکہ عجب رواج میں ہے
لہو کے پھول بدن پر چلائے پھرتے ہیں
ہوا کے شہر میں ممکن نہیں چراغوں کا
سو اپنے آپ کو دل میں جلائے پھرتے ہیں
یہ کیسی آگ ہے بجھتی نہیں زمانوں سے
لہو میں برف کے دریا بہائے پھرتے ہیں
کسی کے ہجر نے ایسا بدل دیا ہے مزاج
کہ خاک ہو کے بھی خوشبو لٹائے پھرتے ہیں
کبھی سجا کے سرِ بزم اپنے زخموں کو
کبھی انہیں دامن میں چھپائے پھرتے ہیں
تُو دریا بن کے بھی اک بوند کا نہ ہو پایا
ہم ایک اشک میں طوفاں بسائے پھرتے ہیں
نہ پوچھ اہلِ ہوا سے یہ حالِ دل ذیشانؔ
ہم اپنے خون سے موسم سجائے پھرتے ہیں
کسی کی آنکھ نے ہجرت جو لکھ دی قسمت میں
سو اپنے شہر کی مٹی اٹھائے پھرتے ہیں
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment