Famous Urdu Gazal Zeeshan Saleemi
ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل 'لمسِ روح' کا تنقیدی مطالعہ
شب کے سنّاٹے میں آ، خواب جگا دے مجھ کو
اپنی پلکوں کے سہارے ہی اٹھا دے مجھ کو
یہ جو خاموشی مری ہستی پہ ہے سایہ فگن
کوئی لہجہ، کوئی اندازِ ندا دے مجھ کو
دل کے بے نور دریچوں میں اجالا سا بھر
کسی آہٹ کی طرح آ کے صدا دے مجھ کو
میرے اندر کئی صدیوں کا اندھیرا ہے مقیم
بن کے اک لمحہ چراغوں سا جلا دے مجھ کو
میں کہ ٹھہرا ہوا پانی ہوں کسی دشت کے بیچ
سنگ بن کر ہی سہی، موج بنا دے مجھ کو
رک گئی دھڑکنِ ایّام بھی حیرت میں کہیں
نبضِ فردا سے ملا، وقت بنا دے مجھ کو
ریت کی گردشِ ساعت میں نہ کھو جائے انا
آگ دے، صورتِ فولاد ڈھلا دے مجھ کو
زخمِ تعبیر ہوں، تقدیر نہ لکھ میرے لیے
حرف کی دھار پہ رکھ، خود ہی چلا دے مجھ کو
شہرِ آئینہ گراں بارِ شکستہ ہے بہت
آئنے توڑ کے اک عکس نیا دے مجھ کو
وقت کی مٹھی میں ذیشانؔ نہ پھر قید رہوں
کھول دے، سانس کا دریا ہی بہا دے مجھ کو
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment