Zeeshan Ameer Saleemi Urdu Gazal
غزل
ہم اپنے زخمِ ہنر کے خسارے پہ ٹھہرے رہے
یہ سفر نقدِ رواں تھا، ہم ادھارے پہ ٹھہرے رہے
ترے خد و خال کے شہر میں جانا جو تھا مگر
ہم دردِ راہ کے بیچ اشارے پہ ٹھہرے رہے
وہ ہجر کی شام اتر کے ٹھہر سی گئی دل میں
ہم رنجِ شب کی اوٹ نظارے پہ ٹھہرے رہے
سرِ موج پہ تھی کشتی یہ شکست یقینی تھی
ہم اپنی نظریں جھکائے کنارے پہ ٹھہرے رہے
نہ فروغِ سحر نے پکارا، نہ شب نے صدا ہی دی
ہم اپنی آنکھ کے ٹوٹے ستارے پہ ٹھہرے رہے
کھلا تھا بابِ امکان، مگر جرأت نہ ہوئی
ہم ذات کے ہی بوسیدہ چارے پہ ٹھہرے رہے
ہوا کے رخ پر بھی ہم نے نہ کوئی بھروسا کیا
ہم خوف کے ہی کمزور غبارے پہ ٹھہرے رہے
ذیشانؔ ہمیں بھی راس نہ آئی نگہ داری
ہم اپنے ہی سائے کے سہارے پہ ٹھہرے رہے

Comments
Post a Comment