Zeeshan Ameer Saleemi Famous Gazal

 

ذیشانؔ امیر سلیمی کی ایک نہایت معروف، فکری اعتبار سے راسخ اور کلاسیکی شعری وقار کی حامل غزل

غزل

مرے خوابِ دل کی بساط پر، جو فراق بن کے وبال رکھ
اسے صبرِ شب کا قرینہ جان، نہ وقت سے بھی سوال رکھ

مرے حالِ جاں کی کتاب پر، لکھا کوئی باب فراق نے
اسے دردِ شب کی حنا سمجھ، نہ چراغِ شہر میں ڈال رکھ

مرے نام جو نہ لیا گیا، وہی درد سب سے قریب تھا
اسے آبروئے سوال جان، لبوں کو ضبط میں ڈھال رکھ

مرے عشق کی یہ جو کج ادائی، قرارِ ذات کا بار ہے
اسے اپنی زلفِ خیال میں، تو بنا کے راز سنبھال رکھ

مرے صبرِ دل کی لکیر پر، جو عذابِ عشق اتر گیا
اسے کربِ جاں کا کمال جان، نہ حرفِ شکوہ بحال رکھ

مرے داغِ وقت کی دھوپ میں، جو گمانِ فصل چمک اٹھا
اسے آبِ دیدہ کی اوٹ دے، نہ صدا بنا کے اچھال رکھ

مرے موسمِ جاں کی شام میں، جو اداسیوں نے بسیج کی
اسے وقت بھر کی تھکن نہ دے، ذرا خامشی میں نڈھال رکھ

مرے زرد پتّوں کی راکھ سے، جو گلاب یادوں کا کھل اٹھا
اسے لمسِ بادِ خزاں نہ دے، کسی دل کی مٹھی میں پال رکھ

تری قربتوں کی حرارتیں، مری سرد جاں کو جلا گئیں
نہ انہیں سخن میں ہی ڈھال دے، انہیں لمس کی سی مثال رکھ

ترے ہونٹ جو ہلے یوں لگا، کوئی صبحِ دل سی اتر گئی
اسے لمسِ شوق کی تاب دے، کسی سانس میں ہی سنبھال رکھ

مرے دل کی بند سی مٹھی میں، جو دعا سی کانپ کے رہ گئی
اسے خوفِ حرف میں مت چھپا، ذرا درد بن کے اُبال رکھ

مرے دیدۂ جاں کے آئینے میں، جو حسن بن کے نکھر گیا
اسے نورِ حق کی ادا سمجھ، نہ نظر کی دھول میں ڈال رکھ

ذیشانؔ امیر سلیمی

تبصرہ نگار

ڈاکٹر عائشہ نورین صدیقی
(پاکستانی ادیبہ، محققہ و نقاد، مقیم: ٹورنٹو، کینیڈا)

تمہید

ذیشانؔ امیر سلیمی عہدِ حاضر میں شاعرِ ہجر کی اس روایت کے امین دکھائی دیتے ہیں جو داخلی کرب کو تہذیبی وقار اور روحانی ضبط کے سانچے میں ڈھال دیتی ہے۔ ان کی غزل میں کلاسیکی اردو شعریات کی گہری چھاپ، صوفیانہ شائستگی اور جدید انسان کی باطنی تنہائی ایک بامعنی وحدت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ لفظ کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بناتے بلکہ اسے اخلاقی، روحانی اور فکری ذمہ داری عطا کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری بین الاقوامی سطح پر ایک سنجیدہ، کلاسیکی اردو شاعر کی شناخت قائم کر چکی ہے۔

اشعار پر تفصیلی و تنقیدی تبصرہ

مرے خوابِ دل کی بساط پر، جو فراق بن کے وبال رکھ

اسے صبرِ شب کا قرینہ جان، نہ وقت سے بھی سوال رکھ

اس شعر میں فراق کو خوابِ دل کی بساط پر بچھا ہوا ایسا وبال قرار دیا گیا ہے جو محض اتفاق نہیں بلکہ تقدیر کا حصہ ہے۔ شاعر ہجر کو صبرِ شب کے قرینے میں رکھ کر اسے روحانی ضبط اور باطنی تربیت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ وقت سے سوال نہ کرنے کی تلقین، انسان کی رضا بالقضا کا مظہر ہے۔ یہ شعر عاشق کے اخلاقی استحکام اور روحانی پختگی کی نمائندگی کرتا ہے۔ کلاسیکی غزل کی روایت میں یہ اسلوب وقار اور متانت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

مرے حالِ جاں کی کتاب پر، لکھا کوئی باب فراق نے

اسے دردِ شب کی حنا سمجھ، نہ چراغِ شہر میں ڈال رکھ

یہ مکمل شعر زندگی کو ایک بامعنی متن اور فراق کو اس کا مستقل باب بنا کر پیش کرتا ہے۔ شاعر درد کو چراغِ شہر میں ڈالنے سے منع کرتا ہے، گویا ذاتی اذیت کو تماشا بننے سے بچاتا ہے۔ دردِ شب کی حنا کہنا دکھ کو جمالیاتی شرافت عطا کرتا ہے۔ یہاں درد زخم نہیں بلکہ وقار کی علامت ہے۔ یہ شعر مشرقی تہذیب کے اس اصول کو زندہ رکھتا ہے جہاں صبر اور خاموشی عظمت کی دلیل سمجھے جاتے ہیں۔

مرے نام جو  نہ  لیا گیا، وہی  درد  سب  سے  قریب  تھا

اسے آبروئے سوال جان، لبوں کو ضبط میں ڈھال رکھ

اس شعر میں خاموش دکھ کی معنویت پوری شدت سے ابھرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک وہی درد سب سے زیادہ گہرا ہے جسے زبان نصیب نہ ہو سکی۔ آبروئے سوال کہنا اس درد کو تقدیس عطا کرتا ہے۔ لبوں کو ضبط میں ڈھالنے کی تلقین داخلی تہذیب اور خودداری کی علامت ہے۔ یہ شعر اذیت کو کمزوری نہیں بلکہ روحانی شرف کے درجے پر فائز کرتا ہے۔

مرے عشق کی  یہ  جو   کج ادائی، قرارِ  ذات  کا  بار  ہے

اسے اپنی زلفِ خیال میں، تو بنا کے راز سنبھال رکھ

یہ شعر عشق کی ناہمواری کو عیب کے بجائے وجودی بوجھ قرار دیتا ہے۔ شاعر اپنی کج ادائی کو راز بنا کر زلفِ خیال میں محفوظ رکھنے کا کہتا ہے۔ یہاں عشق خود احتسابی اور فکری گہرائی کا استعارہ بن جاتا ہے۔ کلاسیکی روایت میں یہی رویہ عشق کی صداقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ شعر داخلی پیچیدگی کو حسن میں تبدیل کر دیتا ہے۔

مرے    صبرِ   دل    کی   لکیر   پر،  جو  عذابِ عشق   اتر  گیا

اسے کربِ جاں کا کمال جان، نہ حرفِ شکوہ بحال رکھ

اس شعر میں صبر کو بھی ایک ایسی لکیر بنا دیا گیا ہے جس پر عذابِ عشق رقم ہو جاتا ہے۔ شاعر اس عذاب کو شکایت کے بجائے کمالِ کرب قرار دیتا ہے۔ حرفِ شکوہ سے اجتناب عشق کی اخلاقی معراج ہے۔ یہاں عشق عبادت اور ریاضت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ شعر صوفیانہ رضا اور تحمل کی نہایت شفاف مثال ہے۔

مرے داغِ وقت کی دھوپ میں، جو گمانِ فصل چمک اٹھا

اسے آبِ دیدہ  کی اوٹ  دے، نہ  صدا  بنا کے اچھال رکھ

یہ شعر وقت کی سختیوں کو داغ اور دھوپ کے استعاروں میں سمیٹتا ہے۔ گمانِ فصل امید کی ایک لرزتی ہوئی کرن ہے۔ شاعر اس امید کو شور میں اچھالنے کے بجائے آنسو کی اوٹ میں محفوظ رکھنے کا درس دیتا ہے۔ یہ ضبط شدہ امید کا شعر ہے۔ یہاں رجائیت خاموش مگر پائیدار صورت میں جلوہ گر ہے۔

مرے موسمِ  جاں کی  شام  میں، جو  اداسیوں  نے بسیج  کی

اسے وقت بھر کی تھکن نہ دے، ذرا خامشی میں نڈھال رکھ

اس مکمل شعر میں اداسی کو روح کے موسم کی ایک کیفیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اداسی کو وقتی تھکن نہیں بناتا بلکہ خامشی میں نڈھال رکھنے کی بات کرتا ہے۔ یہ سکوت کو معنی عطا کرنے کا عمل ہے۔ کلاسیکی غزل میں ایسی اداسی وقار اور سنجیدگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شعر داخلی توازن کا حسین اظہار ہے۔

مرے زرد پتّوں کی راکھ سے، جو  گلاب  یادوں  کا کھل اٹھا

اسے لمسِ بادِ خزاں نہ دے، کسی دل کی مٹھی میں پال رکھ

یہ شعر یادوں کی تخلیقی قوت کا نہایت بلیغ استعارہ ہے۔ خزاں رسیدہ راکھ سے گلاب کا کھلنا حیاتِ نو کا اعلان ہے۔ شاعر اس نازک یاد کو بادِ خزاں سے بچانے کی تلقین کرتا ہے۔ دل کی مٹھی میں پال رکھنا یاد کو امانت سمجھنے کا رویہ ہے۔ یہ شعر ماضی کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ بنا دیتا ہے۔

تری    قربتوں     کی    حرارتیں،  مری   سرد       جاں    کو    جلا   گئیں

نہ انہیں سخن میں ہی ڈھال دے، انہیں لمس کی سی مثال رکھ

اس شعر میں محبوب کی قربت زندگی بخش حرارت بن کر سامنے آتی ہے۔ شاعر اس کیفیت کو لفظوں میں قید کرنے سے گریز کرتا ہے۔ لمس کی مثال رکھنا عشق کی بے لفظ صداقت ہے۔ یہاں خاموشی، بیان سے زیادہ گہری اور بلیغ ہو جاتی ہے۔ یہ شعر جذبے کی پاکیزگی کا نہایت لطیف اظہار ہے۔

ترے   ہونٹ    جو   ہلے    یوں   لگا،  کوئی صبحِ   دل   سی   اتر   گئی

اسے لمسِ شوق کی تاب دے، کسی سانس میں ہی سنبھال رکھ

یہ مکمل شعر محبوب کی جنبشِ لب کو دل کی صبح سے تعبیر کرتا ہے۔ شاعر اس لمحے کو سانس میں محفوظ رکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔ یہ خوشی وقتی نہیں بلکہ روحانی بیداری کی علامت ہے۔ شعر میں نور، تازگی اور امید کی فضا قائم ہے۔ کلاسیکی رومانویت یہاں نہایت شفاف صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

مرے دل کی بند سی مٹھی میں، جو دعا سی کانپ کے رہ گئی

اسے خوفِ حرف میں مت چھپا، ذرا درد بن کے اُبال رکھ

اس شعر میں دعا کو ایک لرزتے ہوئے مگر زندہ احساس کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اسے لفظوں کے خوف میں چھپانے کے بجائے درد کی صورت ابھارنے کا کہتا ہے۔ یہاں درد زندگی کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ شعر اظہار کی جرات اور باطنی سچائی کا مظہر ہے۔ فکری طور پر نہایت مضبوط اور اثر آفریں۔

مرے دیدۂ جاں کے آئینے میں، جو حسن  بن کے نکھر  گیا

اسے نورِ حق کی ادا سمجھ،  نہ نظر   کی   دھول   میں  ڈال رکھ

یہ شعر حسن کو محض جمالیاتی شے نہیں بلکہ نورِ حق کی تجلی قرار دیتا ہے۔ شاعر نظر کی دھول سے بچانے کی تلقین کر کے باطنی بصیرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں جمال اور روحانیت ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔ غزل اس شعر پر ایک بلند فکری مقام پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

اختتامی کلمات

یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کے کلاسیکی شعور، روحانی متانت اور فکری پختگی کی مکمل نمائندہ ہے۔ ہر شعر اپنی جگہ ایک مستقل معنوی جہان رکھتا ہے۔ یہ کلام محض غم کا بیان نہیں بلکہ تہذیبی ضبط، اخلاقی وقار اور عشق کی پاکیزہ روایت کا تسلسل ہے۔ اردو غزل کے سنجیدہ قاری کے لیے یہ غزل بلاشبہ ایک یادگار اور قابلِ فخر ادبی تجربہ ہے


Comments

Popular posts from this blog

Best Selling Urdu Book

Top 20 Famous Urdu Poets

Famous Urdu Gazal Zeeshan Ameer Saleemi