Famous Urdu Ghazal Zeeshan Ameer Saleemi
- Get link
- X
- Other Apps
لفظ سے ماورا حسن: ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا فکری و جمالیاتی مطالعہ
غزل
نہ تو سنگ پر ہی سوال رکھ، نہ چراغِ شب کو گلاب دے
یہ جو حسن ہے سرِ بے خودی، اسے صرف چشمِ خراب دے
ترے حسن سے یہ گماں ہوا، کہ کمال خود بھی سوال ہے
جو ٹھہر گیا ہے نظر میں ہی، اسے ذوقِ دل کا نصاب دے
نہ شمار میں اسے لائیے، نہ مثال میں اسے باندھیے
یہ جو چیز ہے سرِ معجزہ، اسے صرف ہونے کا باب دے
نہ لکھوں میں اس کو کسی ورق پہ، نہ دوں میں اس کو کوئی لقب
یہ جو نام ہے مرے خواب کا، اسے خامشی کا حجاب دے
نہ چھوا اسے کبھی حرف نے، نہ اسے خبر کسی لفظ کی
یہ جو دید ہے حدِ آگہی، مجھے بس نظر کا جواب دے
نہ چلے یہ وقت کی دھوپ میں، نہ ڈھلے یہ شام کے رنگ میں
یہ جو روپ ہے ترے جسم کا، اسے لمحۂ بے حساب دے
نہ پلٹ کے دیکھ کسی طرف، نہ کسی کی سمت جھکو کہیں
یہ جو شوق ہے سرِ دوستی، اسے یار صدقۂ ناب دے
نہ اسے خراجِ نظر کہو، نہ اسے سلامِ سخن کہو
یہ جو لحن ہے مرے درد کا، اسے سانس بھر کا عتاب دے
نہ صدا کی طرح اسے اٹھا، نہ سکوت میں اسے دفن کر
یہ جو لمس ہے ترے لمس کا، اسے یاد بھر کا عذاب دے
نہ شمار میں اسے گھول دے، نہ خیال میں اسے تول دے
یہ جو راز ہے ترے نام کا، اسے دل میں مہرِ نقاب دے
نہ اسے جوازِ وصال کر، نہ اسے دلیلِ ملال کر
یہ جو آہ ہے سرِ عاشقی، اسے دردِ شوق کا باب دے
نہ غنیم جان کے چھوڑ دے، نہ رفیق جان کے آزما
یہ جو راہ ہے سرِ جستجو، اسے خاکِ دل میں کتاب دے
نہ غبارِ نفس اسے بنا، نہ غزالِ نفس اسے بنا
یہ جو خوشبو ہے ترے جسم کی، اسے باغِ لمس کا خواب دے
ذیشانؔ امیر سلیمی
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment